اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر عسکری کارروائی کے لیے پاکستان سے فضائی حدود (Airspace) مانگی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا اور نہ ہی ملک ایسی کسی مہم جوئی کا حصہ بنے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا انتہائی اہم اور سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دورہ پاک چین سفارتی تعلقات کے شاندار 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم بیجنگ میں "پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس” کی صدارت کریں گے، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ اور ہم منصب لی چیانگ سے ان کی الگ الگ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں شیڈول ہیں، جس سے دونوں ممالک کی "آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ” مزید مضبوط ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی اب تک ایران کے دو اہم دورے کر چکے ہیں جبکہ وزیراعظم نے امیرِ قطر سے بھی فون پر رابطہ کیا ہے۔
ترجمان نے 17 مئی کو سعودی عرب اور یو اے ای کی فضائی حدود میں ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر ہٹ دھرمی کے جواب میں ترجمان نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ سندھ طاس معاہدے سے یک طرفہ طور پر نکلنے کی کوئی گنجائش یا شق موجود نہیں ہے۔ بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن (ثالثی عدالت) کے فیصلے کو مسترد کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اور پاکستان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی چینلز استعمال کرتا رہے گا۔
یو اے ای سے پاکستانی تارکینِ وطن کی زبردستی جلاوطنی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ الزامات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ مختلف قانونی وجوہات کی بنا پر صرف 3 ہزار پاکستانیوں کی واپسی ہوئی ہے، جسے مجموعی طور پر لاکھوں کی تعداد میں مقیم پاکستانیوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، پارلیمان اور دفترِ خارجہ کے اعداد و شمار میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
انہوں نے بھارت کی طرف سے "پاکستانی پنکھے” کی دریافت کے الزامات کو ماضی کے "پاکستانی کبوتر” کی طرح دقیانوسی اور مضحکہ خیز قرار دیا۔
دفترِ خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں 21 تاریخ کے حالیہ واقعے میں بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
آخر میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی اور اسلحہ کنٹرول پر کامیاب مشاورت ہوئی ہے اور اس سلسلے کا اگلا اہم ترین اجلاس سال 2027 میں اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔

