صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں تلخ کلامی، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کی سخت سرزنش کر دی
واشنگٹن: ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے اور جنگ بندی کے معاملے پر امریکہ اور اس کے دیرینہ اتحادی اسرائیل کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے بجائے اب شدید ترین نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں اور امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والے حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں شدید تلخ کلامی ہوئی ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو کھلے لفظوں میں آڑے ہاتھوں لیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، منگل کی رات ہونے والی اس گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطلع کیا کہ علاقائی ثالث (جس میں پاکستان اور خلیجی ممالک شامل ہیں) ایک ایسے سفارتی مسودے اور خط پر کام کر رہے ہیں جس پر امریکہ اور ایران دستخط کرنے کے قریب ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتایا:
- معاہدے پر دستخط کے فوری بعد دونوں ممالک کے درمیان 30 دن کے باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں گے۔
- ان مذاکرات کے بنیادی ایجنڈے میں ایران کا نیوکلیئر (جوہری) پروگرام اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنا شامل ہے۔
- صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت ایران سے درست اور مثبت جواب چاہیے، کیونکہ ایک معاہدے سے خطے میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس پلان کو سنتے ہی اسرائیلی وزیراعظم شدید برہمی کا شکار ہو کر آگ بگولہ ہو گئے۔ اسرائیل مسلسل واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی نرمی کے بجائے اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مکمل، مستقل اور سخت ترین پابندیاں عائد کرے۔
نیتن یاہو کے اس اصرار اور سخت لہجے پر صدر ٹرمپ نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کی سخت سرزنش (ڈانٹ ڈپٹ) کر دی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کافی دیر تک سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا اور گفتگو کا اختتام انتہائی تلخ موڈ پر ہوا۔
ہمیشہ کی طرح، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس ہائی پروفائل تلخ کلامی کی رپورٹس پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے قبل غزہ جنگ کے خاتمے اور مغربی کنارے (West Bank) کے معاملات پر بھی صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ضدی رویے پر انہیں آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ایران کی حالیہ تیز رفتار عسکری بحالی کی انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی طویل جنگ کے بجائے متبادل سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں، جو اسرائیل کو کسی صورت قبول نہیں ہے۔

