امریکی انٹیلی جنس کا سنسنی خیز انکشاف؛ ایران کی عسکری بحالی کی رفتار توقعات سے کہیں زیادہ تیز، دو تہائی میزائل لانچرز اور ہزاروں ڈرونز اب بھی محفوظ
واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے باوجود ایران نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ (CNN) کی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے چار اعلیٰ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی عسکری اور دفاعی بحالی کی رفتار ابتدائی مغربی اندازوں سے کہیں زیادہ تیز ہے اور وہ نئے حملوں کے لیے پہلے سے زیادہ تیار نظر آتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کانگریس کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوجی کارروائی "آپریشن ایپک فیوری” نے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا ہے اور ایران کو سنبھلنے میں کئی برس لگیں گے۔ تاہم، تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے اس دعوے کی ہوا نکال دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
- ایران کی بیلسٹک میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی صلاحیتیں تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کا ایک بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے۔
- تقریباً دو تہائی (66 فیصد سے زائد) ایرانی میزائل لانچرز اب بھی اپنی جگہ پر موجود اور فعال ہیں۔
- ایران کے پاس اب بھی ہزاروں ڈرونز کا اسٹاک موجود ہے جو اس کی مجموعی ڈرون صلاحیت کا تقریباً 50 فیصد بنتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانیوں نے بحالی کے معاملات میں انٹیلی جنس کمیونٹی کے تمام پُرانے اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اپریل کے آغاز میں ہونے والی 6 ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ہی ایران نے ڈرونز کی محدود پیداوار دوبارہ شروع کر دی تھی اور وہ صرف 6 ماہ کے اندر ڈرون حملہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو 100 فیصد بحال کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران ان میزائل سائٹس اور ہتھیاروں کی فیکٹریوں کو بھی تیزی سے ٹھیک کر رہا ہے جنہیں نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ ایران کے ساحلی دفاعی کروز میزائلوں کا بڑا حصہ بالکل محفوظ رہا ہے کیونکہ امریکی فضائی مہم نے زیادہ تر توجہ ایران کی اندرونی فوجی تنصیبات پر رکھی تھی۔ یہی کروز میزائل آبنائے ہرمز میں امریکی اور عالمی بحری جہازوں اور سپلائی لائن کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، ایران کو اس تیز رفتار بحالی میں روس اور چین کی تکنیکی و صنعتی مدد حاصل رہی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی الزام لگایا تھا کہ چین ایران کو میزائل سازی کے اجزا فراہم کر رہا ہے، تاہم چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ان الزامات کو یکسر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی اس جنگی تیاری اور تیز رفتار واپسی سے خطے میں سیکیورٹی خدشات ایک بار پھر سنگین ہو گئے ہیں۔ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کے بجائے دوبارہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن چنا، تو ایران اب بھی خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادی خلیجی ممالک کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

