گوگل کا یوٹیوب کے لیے انقلابی قدم؛ نیا اے آئی سرچ فیچر "Ask YouTube” متعارف، اب طویل ویڈیوز دیکھے بغیر مطلوبہ معلومات کا مخصوص حصہ خود سامنے آ جائے گا
کیلیفورنیا: ٹیک جائنٹ گوگل نے اپنی مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دیتے ہوئے یوٹیوب کے لیے ایک سمارٹ اور انقلابی اے آئی سرچ فیچر متعارف کرا دیا ہے۔
اس نئی خصوصیت کے بعد صارفین اب صرف روایتی یا سادہ کی ورڈز سرچ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسی چیٹ بوٹ کی طرح تفصیلی اور پیچیدہ سوالات پوچھ کر زیادہ جامع، درست اور متعلقہ نتائج حاصل کر سکیں گے۔
گوگل کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس کے موقع پر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو (سی ای او) سندر پچائی نے اس فیچر کا باضابطہ اعلان کیا۔ "آسک یوٹیوب” کے تحت جب کوئی صارف سرچ بار میں کوئی پیچیدہ سوال تحریر کرے گا، تو یوٹیوب نہ صرف اس موضوع سے متعلق بہترین ویڈیوز تجویز کرے گا بلکہ ٹیکسٹ کی شکل میں ایک معلوماتی خلاصہ (سمری) اور اضافی ڈیٹا بھی فراہم کرے گا۔ اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ صارف نتیجے سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں اسی موضوع پر ‘فالو اپ’ (مزید) سوالات بھی پوچھ سکے گا۔
اس فیچر کا سب سے حیران کن اور بہترین حصہ یہ ہے کہ یہ صارف کا وقت بچانے کے لیے اسے پوری ویڈیو دیکھنے پر مجبور نہیں کرے گا۔ اے آئی ٹیکنالوجی ویڈیو کا تجزیہ کر کے صارف کو براہِ راست اسی مخصوص منٹ یا سیکنڈ (ٹائم اسٹیمپ) پر لے جائے گی جہاں اس کے سوال کا جواب موجود ہوگا۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی طویل ٹریول وی لاگ میں سے صرف کسی خاص شہر کے روڈ ٹرپ، بہترین ہوٹل یا سیاحتی مقام کی ٹِپ جاننا چاہتا ہے، تو اے آئی ویڈیو کو وہیں سے پلے کر دے گا، جس سے لمبی ویڈیوز میں وقت ضائع کرنے کا روایتی طریقہ ختم ہو جائے گا۔
گوگل حکام کے مطابق یہ فیچر خودکار طور پر فعال نہیں ہوگا، بلکہ صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جا کر اسے خود ان ایبل (Enable) کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سرچ بار کے ساتھ "Ask YouTube” کا ایک نیا بٹن ظاہر ہوگا، جہاں کلک کرنے پر مختلف ریڈی میڈ سوالات کی تجاویز (پراپمٹس) بھی نظر آئیں گی اور صارف اپنا کسٹم سوال بھی لکھ سکے گا۔
ابتدائی مرحلے میں یہ فیچر صرف امریکہ میں یوٹیوب پریمیئم (YouTube Premium) استعمال کرنے والے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ تاہم، گوگل نے عندیہ دیا ہے کہ اس کا تجربہ مکمل ہونے کے بعد اسے جلد ہی پاکستان سمیت دنیا کے دیگر خطوں اور تمام عام صارفین کے لیے بھی متعارف کرا دیا جائے گا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ویڈیو اسٹریمنگ اور سرچنگ کے روایتی انداز کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا۔

