اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کو عالمی سطح پر زبردست پزیرائی مل رہی ہے۔ چین اور امریکہ کے بعد اب دو بڑی عالمی و علاقائی طاقتوں یعنی روس اور سعودی عرب نے بھی اس بحران کو ٹالنے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی کھل کر تائید کر دی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خورئیوف (Albert P. Khorev) نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم امریکہ اور ایران کے تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ روس اس مہم جوئی کے پرامن حل کے لیے ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرے گا جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے جائز تحفظات کو دور کر سکے۔
روسی سفیر نے پاکستانی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس پاکستان سے جنگ کے لیے بھرتیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی باتیں متضاد ہیں؛ جس مخصوص شخص کی بھرتی کا واویلا مچایا گیا، اس نے روسی سفارت خانے میں کبھی ویزے کی درخواست تک نہیں دی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستانی متعلقہ اداروں کی جاری تحقیقات کے نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔
یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے روسی سفیر نے شکوہ کیا کہ پاکستانی میڈیا صرف یوکرین کے جانی و مالی نقصانات دکھاتا ہے اور روس کے نقصانات کو زیرِ بحث نہیں لاتا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ روس ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہے اور جلد یا بدیر یوکرین میں اپنے اہداف حاصل کر کے رہے گا۔
دوسری جانب، عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تازہ بیان میں امریکہ ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ثالثی کی بدولت فریقین جلد کسی منطقی تصفیے پر پہنچ جائیں گے، جس سے خطے کا معاشی دباؤ کم ہوگا۔
سعودی وزیر خارجہ نے امریکی قیادت کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک کی خصوصی درخواست پر عین وقت پر ایران پر حملے روک کر مذاکرات کا جو موقع دیا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔
ایران کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی سفارتی کاوشوں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اس سنہری مہلت سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور جلد از جلد امن معاہدہ سائن کرے۔

