"امریکی دعویٰ انتہائی افسوسناک اور بے بنیاد جھوٹ ہے”؛ ایران نے میناب اسکول کو کروز میزائل بیس قرار دینے کا امریکی مؤقف سختی سے مسترد کر دیا

تہران: ایران اور امریکہ کے مابین جاری حالیہ کشیدگی کے دوران تہران نے جنوبی شہر میناب کے ایک اسکول پر ہونے والے ہولناک میزائل حملے سے متعلق امریکی فوجی کمانڈ کے دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ معصوم بچوں کے تعلیمی ادارے کو فوجی یا کروز میزائل اڈہ قرار دینا حقیقت میں امریکی افواج کے ہاتھوں ہونے والے ہولناک جنگی جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک انتہائی مذموم کوشش ہے۔

اس سے قبل امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک نگرانی کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران اسکول پر حملے کی براہِ راست ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا "یہ اسکول دراصل پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی ایک فعال کروز میزائل بیس کے اندر واقع تھا، جس کے باعث اس حملے کی تحقیقات عام کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ ‘پیچیدہ’ ہو گئی ہیں”۔

دوسری جانب، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی اپنی ابتدائی اندرونی تحقیقات سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول کی تباہی کی ممکنہ ذمہ دار خود امریکی افواج ہی تھیں۔

امریکی کمانڈر کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ امریکہ کا یہ مؤقف کہ متاثرہ اسکول کسی میزائل بیس کے اندر قائم تھا، ایک بے بنیاد، گمراہ کن اور انتہائی افسوسناک جھوٹ ہے۔

ترجمان نے امریکی سینٹکام کے سربراہ کے بیان کو 28 فروری کے میزائل حملوں کی سنگین حقیقت کو چھپانے کی واضح کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کسی بھی تعلیمی ادارے کو اسکول کے اوقات میں، جب وہ بچوں سے بھرا ہوا ہو، نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی اور ایک کھلا ‘جنگی جرم’ ہے۔

جنہوں نے اس تباہ کن اور سفاکانہ حملے کا حکم دیا اور جنہوں نے اس پر عمل درآمد کیا، انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت کٹہرے میں لا کر مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، جنگ کے پہلے ہی روز 28 فروری کو جنوبی شہر میناب کے اسکول پر ہونے والے اس میزائل حملے میں 168 معصوم بچے شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد سے پورے ایران میں شدید غم و غصہ اور کہرام مچا ہوا ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور امن مذاکرات کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔