امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ تاریخی معاہدہ آخری مراحل میں داخل؛ اگلا مرحلہ عید کے بعد اسلام آباد میں ہوگا

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید ترین تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے جاری جنگ بندی مذاکرات میں ایک اور تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین مجوزہ امن معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں، جس میں پاکستان کلیدی اور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

عرب میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے سنسنی خیز دعوے کے مطابق، اس تاریخی امن معاہدے کے حتمی مسودے کی تکمیل کا باضابطہ اعلان کرنے کے لیے پاکستان کی ایک "اہم ترین شخصیت” کل (جمعہ کو) ایران کا ہنگامی دورہ کر سکتی ہے۔ اس دورے کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں امن معاہدے کے نکات پر آخری مہر لگائی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تزویراتی مذاکرات کا اگلا اور حتمی مرحلہ بقر عید (حج سیزن) کے فوراً بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جہاں دونوں فریقین کے وفود باقاعدہ میز پر بیٹھیں گے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ تہران پہنچے اور انہوں نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے انتہائی اہم ملاقاتیں کیں۔

تہران سے واپسی پر محسن نقوی سیدھے بلوچستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایرانی قیادت کے پیغامات پہنچائے اور عسکری و سول قیادت کو اعتماد میں لیا۔ اسی اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد اب پاکستان کی اہم شخصیت کے دورہ تہران کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران پر طے شدہ بڑے فوجی حملے کو آخری لمحات میں خلیجی اتحادیوں کی درخواست پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا اور عندیہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

اس فیصلے پر سعودی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس احسن اقدام سے ایران کو مذاکرات کے لیے ناگزیر وقت مل گیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے بچایا جا سکے گا۔