مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے پاکستان متحرک؛ وزیر داخلہ محسن نقوی 24 گھنٹے میں دوسری بار تہران پہنچ گئے، ایرانی صدر سے اہم ملاقات
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین سفارتی و عسکری کشیدگی اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ حملے کے تناظر میں پاکستان نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار انتہائی تیز کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوسری بار ایک ہنگامی اور اہم دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ایرانی کی اعلیٰ ترین قیادت سے دوبارہ ملاقاتیں کی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران پہنچنے کے فوراً بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جو کہ ایک ہفتے کے دوران ان کے درمیان ہونے والی دوسری ملاقات ہے۔
اس اہم بیٹھک میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کی بحالی، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور جنگ کے خطرات کو مستقل طور پر ٹالنے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر نے علاقائی استحکام، امن مذاکرات کی بحالی اور سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر محسن نقوی نے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور افہام و تفہیم کی اہمیت پر زور دیا۔
اپنے اس انتہائی حساس دورے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈر انچیف جنرل احمد وحیدی سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور کسی بھی ممکنہ عسکری مہم جوئی کے سدِباب کے لیے حکمتِ عملی پر بات چیت کی گئی۔
واضح رہے کہ محسن نقوی نے محض پانچ روز قبل بھی ایران کا ایک تفصیلی دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے ایرانی ہم منصب، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کی تھیں۔
وہ یہ دورہ مکمل کر کے صرف 24 گھنٹے قبل ہی پاکستان واپس پہنچے تھے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ ترین صورتحال اور خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیے گئے پیغامات کے بعد، وہ آج سہہ پہر دوبارہ ہنگامی طور پر تہران روانہ ہوئے۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے خلیجی ممالک، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک انتہائی متحرک اور معتبر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور وزیر داخلہ کا یہ مسلسل دوسرا دورہ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔

