ایران پر آج ہونے والا طے شدہ حملہ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر مؤخر کیا، صدر ٹرمپ کا انکشاف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے خلیجی ممالک کے سربراہان کی خصوصی درخواست پر ایران پر آج ہونے والا مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل تھیں، تاہم سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے انہیں قائل کیا کہ فی الحال مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی اور اماراتی صدر محمد بن زائد النہیان نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں ان سے رابطے کیے اور یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔

خلیجی رہنماؤں کا موقف ہے کہ ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو نہ صرف امریکہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے قابلِ قبول ہوگا، جس کی بنیادی شرط ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا ہے۔

اس حوالے سے اسرائیلی صحافی باراک رویڈ (Barak Ravid) نے امریکی ذرائع کے حوالے سے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ تینوں خلیجی ممالک نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ "اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کی قیمت اور ردعمل خلیجی ممالک کو اپنی توانائی اور آئل تنصیبات کی تباہی کی صورت میں چکانا پڑے گی”۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اتحادی رہنماؤں کے احترام میں امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملہ فی الحال روک دیا جائے۔

تاہم انہوں نے متنبہ بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکی فوج کسی بھی لمحے حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قطر، سعودی عرب اور یو اے ای کا یہ مشترکہ اقدام خطے کو ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے کی کوشش ہے۔ ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی صورت میں عالمی تیل کی تجارت اور خلیجی ریاستوں کی معیشت شدید خطرے میں پڑ سکتی تھی۔

دوسری جانب رائٹرز کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ممکنہ معاہدے کی صورت میں ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ہٹانے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔