سیاسی تشہیر کے لیے کیا گیا دورہ ہزیمت میں بدل گیا؛ نیدرلینڈ کے وزیراعظم نے مودی کو آئینہ دکھا دیا

اوسلو: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ یورپ کے دوران بھارت کو عالمی سطح پر شدید سفارتی سبکی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بی جے پی کی جانب سے محض سیاسی تشہیر اور ذاتی مفاد کے لیے ترتیب دیا گیا یہ دورہ مودی سرکار کے لیے فائدے کے بجائے دنیا بھر کے سامنے بھارت کا سفاک چہرہ عیاں کرنے کا سبب بن گیا ہے، جہاں یورپی رہنماؤں نے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر مودی کو کڑے سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

دورے کے دوران نیدرلینڈز کے وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اقلیتوں کے حقوق، آزادیِ صحافت اور قانون شکنی کے معاملے پر واضح آئینہ دکھایا۔

نیدرلینڈز کے میڈیا اور بھارتی جریدے ‘دی وائر’ کے مطابق، ڈچ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے دورِ حکومت میں مسلم اور دیگر اقلیتیں شدید دباؤ میں ہیں اور وہاں آزادیِ صحافت پر مسلسل قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، جو کہ یورپی یونین اور نیدرلینڈز کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

ڈچ میڈیا میں مودی کے دورے کے دوران نیدرلینڈز کی شہری ‘انسیہ’ کا اغوا کیس بھی نمایاں اہمیت کے ساتھ زیرِ بحث رہا، جس نے بھارتی قوانین کی کمزوری کو دنیا کے سامنے ظاہر کیا۔

یورپی یونین نے بھی مودی سرکار کو صاف الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت یورپی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement) کا خواہش مند ہے، تو اسے معیشت کے ساتھ ساتھ بھارت میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ پر بھی سنجیدہ بات چیت کرنا ہوگی اور اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

دورے کے اگلے مرحلے میں ناروے کے اندر بھی مودی اور دیگر اعلیٰ بھارتی عہدیدار عالمی میڈیا کی جانب سے بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے متعلق اٹھائے گئے تیکھے سوالات پر مکمل طور پر لاجواب دکھائی دیے اور ان کے جواب دینے سے کتراتے رہے۔

عالمی مبصرین اور ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ دورہ بی جے پی کی اندرونی سیاست اور الیکشن تشہیر کے لیے تو استعمال ہو سکتا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والے ان سنگین سوالات نے مودی حکومت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر بڑا طمانچہ رسید کیا ہے اور بھارت کی عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔