دشمن اب پاکستان پر بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا، ‘آپریشن غضب للحق’ نے دہشت گردوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا؛ وزیراعظم شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب

کوئٹہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دشمن قوتوں کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب کوئی بھی پاکستان پر بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پاک فضائیہ کے شاہینوں اور ‘فتح میزائلوں’ نے صحیح نشانے لگا کر دشمن کو ایسا کرارا اور ناقابلِ فراموش سبق سکھایا کہ دنیا نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو یکسر مسترد کر کے پاکستان کے سچے موقف کو تسلیم کیا۔

کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کرنے اور وہاں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وطنِ عزیز کے بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان موجودگی ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

انہوں نے ملکی بقا، روایات اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مسلح افواج کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرائے دفاع، داخلہ و اطلاعات اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک سال قبل کی بھارتی اشتعال انگیزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن قوت نے خود کو ہم سے زیادہ طاقتور سمجھنے کی غلطی کی تھی اور پاکستان کی مخلصانہ و سنجیدہ مذاکرات کی پیشکش کو نظر انداز کر کے کشیدگی اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ‘معرکہ حق’ کے دوران پاکستان کی تاریخی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت یہ بات بھول گیا تھا کہ پاکستان کی قیامِ امن کی کوششیں کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت تھیں، جس کا ہم نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔

انسدادِ دہشت گردی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ "ہمارا انسدادِ دہشت گردی آپریشن گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے، لیکن موجودہ ‘آپریشن غضب للحق’ نے دشمن کے دلوں میں سچا خوف پیدا کر دیا ہے۔ یہ مہم اب پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی اور افغان طالبان کے زیرِ اثر دہشت گرد پراکسی عناصر (ٹی ٹی پی، بی ایل اے و دیگر) سے معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا”۔

انہوں نے افغان طالبان رجیم پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بلوچستان میں معاشی اور معدنیات کے منصوبوں کی ترقی کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔

خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا سفارتی سنگِ میل سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تنازع نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال اور معاشی کمزوری میں دھکیل دیا تھا، جس پر پاکستان نے عسکری و سول سفارت کاری (Military Diplomacy) کا متحرک استعمال کیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے ہی میں 8 اپریل کو امریکہ اور ایران نے باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس امن راہ کو اختیار کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور اپنے "عزیز بھائی” ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی درخواست پر مثبت جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ‘نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر’ کے طور پر دنیا میں اپنا امن کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور دوست ممالک سے آئے ہوئے مہمان افسران کو خوش آمدید کہا۔