سلہٹ ٹیسٹ کا سنسنی خیز اختتام قریب؛ 437 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے 7 وکٹ پر 316 رنز، رضوان کی مزاحمت جاری
سلہٹ: پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کا چوتھا روز سنسنی خیز انداز میں ختم ہو گیا ہے۔ بنگلادیش کی جانب سے دیے گئے 437 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں چوتھے دن کے اختتام پر پاکستان نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 316 رنز بنا لیے ہیں۔
قومی ٹیم کو تاریخی فتح کے لیے مزید 121 رنز جبکہ ہوم ٹیم بنگلادیش کو میچ جیتنے کے لیے صرف 3 وکٹیں درکار ہیں۔
چوتھے دن کے کھیل کے اختتام پر وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان 75 رنز اور ساجد خان 8 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں اور بنگلادیشی بولرز کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل چوتھے دن کا آغاز پاکستانی اوپنرز اذان اویس اور عبد اللہ فضل نے کیا، لیکن قومی ٹیم کی شروعات مایوس کن رہی۔ محض 27 کے مجموعی اسکور پر عبد اللہ فضل 6 رنز بنا کر ناہید رانا کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ اذان اویس بھی 21 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔
دو وکٹیں جلدی گرنے کے بعد سابق کپتان بابر اعظم اور موجودہ کپتان شان مسعود نے ٹیم کو سنبھالا اور اچھی شراکت قائم کی۔ بابر اعظم نے 52 گیندوں پر 47 رنز کی اننگز کھیلی لیکن وہ تیج الاسلام کا شکار بن گئے۔
کپتان شان مسعود اور مڈل آرڈر بیٹر سلمان علی آغا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 71، 71 رنز بنائے، تاہم دونوں سیٹ ہونے کے بعد اپنی اننگز کو بڑے اسکور میں تبدیل نہ کر سکے۔ دیگر بیٹرز میں سعود شکیل 6 رنز بنا سکے جبکہ حسن علی کھاتہ کھولے بغیر ہی آؤٹ ہو گئے۔
بنگلادیش کی طرف سے اسپنر تیج الاسلام نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، ناہید رانا نے 2 اور مہدی حسن میراز نے ایک وکٹ حاصل کی۔
واضح رہے کہ اس ٹیسٹ میچ میں بنگلادیش نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 278 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں محض 232 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی اور بنگلادیش کو 46 رنز کی قیمتی برتری حاصل ہوئی تھی۔
بنگلادیش نے اپنی دوسری اننگز میں شاندار بلے بازی کی اور 390 رنز کا بڑا اسکور بورڈ پر سجا کر پاکستان کو جیت کے لیے مجموعی طور پر 437 رنز کا ہدف دیا۔
پانچویں اور آخری دن کا کھیل انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں محمد رضوان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس ناممکن نظر آنے والے ہدف تک پہنچا سکیں۔

