مکہ معاہدہ نہ بھی ہو تو مقدس مقامات کی حفاظت ہمارا مذہبی فریضہ ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حرمین الشریفین کی حفاظت کے لیے کسی دنیاوی معاہدے کی ضرورت نہیں بلکہ مقدس مقامات کا تحفظ ہمارا مذہبی فریضہ ہے، تاہم اب وہ صورتحال بالکل آ چکی ہے جہاں سہ فریقی ’مکہ معاہدہ‘ نافذ ہونا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کی سلامتی یا حدود کی خلاف ورزی کی صورت میں تینوں ممالک مل کر جارحیت کا مقابلہ کرنے کے پابند ہیں۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان اور ترکیہ واشگاف الفاظ میں سفارتی اور عملی طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کا پیغام ایران کو پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران یمن کے مخصوص گروپ کی وجہ سے خطے میں کوئی نیا محاذ کھولے گا یا دیگر ممالک سے تعلقات خراب کرے گا، بالخصوص ایسے وقت میں جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اس کے حالات پہلے ہی حساس ہیں۔

واضح رہے کہ یہ بیانات سعودی ایئر ڈیفنس کی جانب سے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے حوثی ڈرون کو تباہ کیے جانے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس پر سعودی اتحاد نے حرمین الشریفین کی سیکیورٹی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔