امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کی تیاریاں؛ ‘آپریشن ایپک فیوری’ دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے باوجود ایک بار پھر شدید جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) ایران کے خلاف معطل شدہ عسکری کارروائی ‘آپریشن ایپک فیوری’ (Operation Epic Fury) کو آئندہ چند دنوں میں دوبارہ شروع کرنے کی حتمی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ تیاریاں اب تک کی سب سے بڑی اور شدید ترین جنگی تیاریاں قرار دی جا رہی ہیں۔
رواں ہفتے حملے کا امکان اور اہم اہداف: اخبار نے پینٹاگون کے دو اعلیٰ عہدیداروں کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل گزشتہ ایک ہفتے سے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور یہ کارروائیاں ممکنہ طور پر رواں ہفتے ہی شروع ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے پاس درج ذیل جارحانہ آپشنز زیرِ غور ہیں:
-
فضائی بمباری: ایران کے اہم ترین عسکری اڈوں اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر اب تک کی شدید ترین بمباری کی جا سکتی ہے۔
-
خارگ آئی لینڈ پر قبضہ: خلیج فارس میں واقع ایران کے سب سے بڑے اور اہم ترین تیل برآمدی مرکز ‘خارگ آئی لینڈ’ پر قبضے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ ایران کی معیشت کو مفلوج کیا جا سکے۔
-
اسپیشل فورسز کا آپریشن: دونوں ممالک ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی اسپیشل فورسز بھیجنے کا بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں، کیونکہ واشنگٹن اور تل ابیب کو خدشہ ہے کہ ایران اس مواد سے فوری طور پر جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔
امریکی ہتھیاروں کی اسرائیل آمد اور عوامی ردِعمل کا خوف: اسرائیلی میڈیا نے بھی پینٹاگون کے اس منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں امریکی کارگو طیارے بھاری گولا بارود، جدید میزائل اور عسکری سازوسامان لے کر اسرائیل کے مختلف فوجی اڈوں پر اترے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ غیر معمولی نقل و حمل ایران کے خلاف نئی جنگ کا واضح پیش خیمہ ہے۔ دوسری جانب ‘نیویارک ٹائمز’ نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس سے امریکہ میں پہلے ہی غیر مقبول اس جنگ کے خلاف عوامی غصہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے لیے مشکل وقت شروع ہو جائے گا”۔
دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ "ہم فوری جنگ کے لیے تیار ہیں اور صرف صدر ٹرمپ کے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں”۔
ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ کسی بھی جارحیت یا دباؤ کی صورت میں اس کا ردِعمل طوفانی اور تباہ کن ہوگا۔

