امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی تیز؛ وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور سپیکر سے اہم ملاقاتیں
تہران: وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے علیحدہ علیحدہ تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی کا یہ دورہ ایسے نازک وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ کی طرف سے ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر اب تک عسکری کارروائی روکی گئی ہے کیونکہ پاکستان دونوں ممالک کا دوست ہونے کے ناطے اس سنگین معاملے کا سفارتی حل چاہتا ہے۔
ایرانی صدارتی محل میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریباً تین گھنٹے گزارے، جہاں صدر مسعود پزشکیان سے ان کی ملاقات 90 منٹ تک جاری رہی۔ اس اہم بیٹھک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک نے اپنی سر زمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جس سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران میں عدم تحفظ پھیلانے کے منصوبے ناکام ہوئے۔
انہوں نے اس تعاون پر پاکستان، عراق اور افغانستان کی حکومتوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ "اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، بیرونی جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے”۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ کے مطابق، پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات اور شرائط کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں واشنگٹن نے مذاکرات کے لیے شرط رکھی ہے کہ ایران کو کوئی جنگی ہرجانہ نہیں دیا جائے گا، 400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا، صرف ایک ایرانی جوہری تنصیب برقرار رہے گی، منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی واپس نہیں ملے گا، اور مذاکرات تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے۔
دوسری طرف تہران نے اپنے جواب میں مطالبہ کیا ہے کہ تمام محاذوں (خصوصاً لبنان) میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے، ایران پر سے تمام پابندیاں ہٹائی جائیں، منجمد اثاثے واپس ہوں، جنگی ہرجانہ ادا کیا جائے، اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری تسلیم کی جائے۔
ایران نے گزشتہ رات اپنا یہ موقف پاکستانی حکام کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیا ہے کیونکہ امریکی فریق نے ایرانی تجاویز پر کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔

