اسرائیل فوری جنگ کے لیے تیار، صدر ٹرمپ کے آخری سگنل کا انتظار؛ امریکی میڈیا کے سنسنی خیز انکشافات

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز” (The New York Times) نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اسرائیل اور امریکہ، ایران پر دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہی شروع ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے اعلیٰ حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس وقت ایران کے خلاف اب تک کی سب سے شدید اور وسیع تر عسکری کارروائی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔

دونوں ممالک مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کے فوجی اڈوں اور اہم انفرا اسٹرکچر پر وسیع اور شدید ترین بمباری کرنا اور خلیج فارس میں واقع ایران کے سب سے بڑے اور اہم ترین تیل برآمدی مرکز "خارگ آئی لینڈ” (Kharg Island) پر بحری و فضائی راستے سے قبضہ کر کے ایرانی معیشت کو مفلوج کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی سرزمین پر خصوصی کمانڈوز اتار کر ملبے تلے دبے جوہری مواد کو اپنے قبضے میں لینا یا اسے وہاں سے نکالنے جیسے اہم ترین اقدامات بھی شامل ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) ملبے تلے دب جانے کا خدشہ ہے، جو کہ تقریباً 10 جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔

تاہم، امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اس انتہائی افزودہ یورینیم کو حاصل کرنے کے لیے خصوصی کمانڈو آپریشن انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہزاروں فوجیوں کی مدد، علاقے کا مکمل محاصرہ اور ایرانی زمینی افواج کے ساتھ براہِ راست اور ہولناک جھڑپوں کا قوی امکان موجود ہوگا۔

دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے اسرائیلی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اس وقت "فوری جنگ” کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور وہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے مذاکرات اور کارروائی سے متعلق حتمی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے لیے انتہائی مشکل وقت شروع ہو جائے گا۔