امریکا اور ایران میں براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پُرعزم ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے حوالے سے انتہائی پُرامید ہیں۔

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز” (Sunday Times) کو دیے گئے ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہماری تاریخ کے روشن ترین لمحات میں سے ایک ہے کیونکہ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ایماندار ثالث اور ایسے ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے جس پر عالمی قیادت کو مکمل اعتماد ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ امن آسانی سے حاصل نہیں ہوتا، اس کے لیے صبر، دانشمندی اور مشکل حالات میں فیصلے کرنے کی صلاحیت چاہیے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت کی مضبوط شراکت داری کے باعث پاکستان کی عالمی ساکھ مکمل طور پر بدل گئی ہے، اور خوش قسمتی سے ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک سب پاکستان پر یکساں اعتماد کرتے ہیں۔

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور ایران کے ساتھ 565 میل طویل سرحد سمیت آبنائے ہرمز کے قریب اس کی بندرگاہیں عالمی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور قلت پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اسی لیے ہم اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ان مذاکرات کی کامیابی کے پیچھے عسکری قیادت کے غیر معمولی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ "فیلڈ مارشل سید عاصم منیر” نے اس سفارتی عمل میں نہایت اہم اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مسلسل کوششوں اور اپنے عالمی ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطوں کی بھی تعریف کی۔

گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت تصادم کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بروقت مداخلت نہ کرتے تو دنیا جنوبی ایشیا میں ایک ہولناک تباہی دیکھ سکتی تھی اور شاید کوئی زندہ نہ بچتا جو یہ بتا سکتا کہ یہاں کیا ہوا تھا”۔

ملکی سلامتی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس میں کالعدم ٹی ٹی پی (TTP) اور بی ایل اے (BLA) ملوث ہیں۔

انہوں نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کو ایک "مجبوری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے معصوم شہری اور سیکڑوں جوان مارے جا رہے ہوں تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہم نے کابل کو بارہا امن کے پیغامات بھیجے ہیں کہ ہمیں ہمیشہ پڑوسی بن کر رہنا ہے، ہماری صرف ایک درخواست ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کا داغ پاکستان کے چہرے سے مٹانا ہمارا غیر متزلزل عزم ہے اور یہ جنگ ہم صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں۔