سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی تاریخی قانونی و سفارتی فتح؛ عالمی ثالثی عدالت نے بھارتی مؤقف مسترد کر دیا، کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ
دی ہیگ: سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے تناظر میں پاکستان کو بین الاقوامی محاذ پر ایک بہت بڑی قانونی، سفارتی اور اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن اور ‘زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب’ سے متعلق تنازعات پر پاکستان کے حق میں تاریخی ضمنی فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ورلڈ بینک کی ضمانت کے تحت قائم ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے بھارت یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کر سکتا۔
عدالت نے پاکستان کے مؤقف کو درست قانونی تشریح اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا۔
عدالت نے بھارت کی جانب سے خطے میں پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے نئی دہلی پر سخت ذمہ داریاں عائد کی ہیں کہ وہ کشن گنگا اور رتلے منصوبوں سے متعلق تمام تکنیکی، آپریشنل اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا پاکستان کے ساتھ شیئر کرے۔
حکومتِ پاکستان نے 15 مئی 2026 کو ثالثی عدالت کی جانب سے جاری کردہ اس ضمنی فیصلے پر بھرپور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر جانبدار انصاف اور معاہداتی ذمہ داریوں کی فتح قرار دیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کرتا ہے کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر ٹھوس اور حقیقی حدود عائد کرتا ہے۔ یہ حدود محض رسمی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مرحلے پر ہی لاگو ہوتی ہیں، جنہیں بعد میں کسی زبانی یقین دہانی کے ذریعے پورا نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ رن آف دی ریور منصوبوں کے لیے ذخیرہ آب کا تعین فرضی پیداواری صلاحیت یا غیر حقیقی مفروضوں کے بجائے حقیقی ڈیٹا، متوقع عملی آپریشن اور پاور سسٹم کی اصل ضروریات پر ہونا چاہیے۔
مزید برآں، عدالت نے ماحولیاتی بہاؤ (کم از کم پانی کے بہاؤ) سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو بھی تسلیم کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے ذخیرہ آب کے حساب کتاب میں شامل کرنا لازم ہوگا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی کمزور قانونی پوزیشن کے باعث عالمی ثالثی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کر رہا تھا اور اس کے فیصلوں کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم بھارتی بائیکاٹ کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھی اور اہم قانونی نکات پر حتمی اور لازمی فیصلہ دے دیا۔
اگر بھارت پاکستان کو معاہدے کی پاسداری کا جائزہ لینے کے لیے درکار معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ یہ ثابت کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے گا کہ اس کا مجوزہ ڈیزائن معاہدے کے مطابق ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ جاری رکھے گا۔

