بنوں فتح خیل چوکی حملے کے بعد کے پی پولیس کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ماسٹر مائنڈ کے بھتیجے سمیت 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک

بنوں: خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر ہونے والے حالیہ واقعے کے بعد پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی/آر پی او بنوں سجاد خان کی خصوصی ہدایات پر چوبیس گھنٹوں کے دوران کیے گئے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں 5 انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق، مارے جانے والے دہشت گردوں میں فتح خیل چوکی حملے کے ماسٹر مائنڈ زرولی کا سگا بھتیجا حیات اللہ بھی شامل ہے۔ ہلاک دہشت گرد حیات اللہ دیسی ساختہ بم (IED) بنانے کا ماہر اور بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر تھا، جس نے چوکی کو تباہ کرنے کے لیے رکشے میں بارود نصب کیا تھا۔

پولیس نے اس کے ٹھکانے سے آئی ای ڈی بنانے والا سامان، بال بیرنگ، پرائما کارڈ اور بھاری مقدار میں بارود بھی برآمد کیا ہے۔ اس کے علاوہ، مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کی گئی کارروائی میں چوکی پر حملے میں براہِ راست ملوث خارجی اسد یار، خارجی نعمت اللہ اور ایک اہم دہشت گرد کمانڈر منصور بھی مارے گئے ہیں۔

یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی، پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں پر حملوں کی متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بنوں میں 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پولیس نے "بھارتی اسپانسرڈ” دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور پوری قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے۔

آر پی او بنوں سجاد خان نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم شہدا کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے اور ضلع میں امن کے مکمل قیام تک آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔”

دوسری جانب، آئی جی پی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بنوں پولیس کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے سے امن دشمنوں اور ان کے سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ کر کے ہی دم لیا جائے گا۔