معرکہ حق دو نظریات کا فیصلہ کن مقابلہ تھا، دشمن کی ہر مہم جوئی کا جواب ‘تکلیف دہ’ ہوگا؛ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جی ایچ کیو میں تاریخی خطاب
راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ‘معرکہ حق’ صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں اللہ کے فضل سے حق کو فتح اور باطل کو ہزیمت نصیب ہوئی۔
جی ایچ کیو میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ اور ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کی کامیابی کی یاد میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دشمن کو سخت وارننگ دی کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی آئندہ مہم جوئی کے نتائج محدود نہیں بلکہ "انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ” ہوں گے۔
فیلڈ مارشل نے انکشاف کیا کہ مئی 2025 کے معرکے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں اور فتح میزائلوں نے دشمن کے 26 سے زائد عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور ہندوستان کو وہ جانی و مالی نقصان پہنچایا جس کی قیمت وہ مدتوں چکاتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا پاکستان کو سفارتی تنہائی اور عسکری جارحیت کا نشانہ بنانے کا خواب اس کے قد کاٹھ سے کہیں بڑا ہے، جسے پاکستان کبھی پورا نہیں ہونے دے گا۔
خطاب کے دوران فیلڈ مارشل نے مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے "ملٹی ڈومین آپریشنز”، ڈرونز، سائبر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ افواج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ‘ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز’ قائم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو ایک عظیم سفارتی سنگ میل قرار دیا۔ افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ کرے۔
انہوں نے کشمیری عوام کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

