سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ نے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید کر دی؛ "ایران کی 75 فیصد میزائل صلاحیت اب بھی برقرار”
واشنگٹن: امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک حالیہ خفیہ رپورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مسلسل فضائی حملوں اور شدید بمباری کے باوجود ایران اپنی عسکری قوت کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کے 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخائر اب بھی مکمل فعال ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق، یہ رپورٹ صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے یکسر مختلف ہے جو انہوں نے حال ہی میں اوول آفس میں دیے تھے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ ہو چکے ہیں اور شاید صرف 18 سے 19 فیصد صلاحیت باقی ہے۔
تاہم، سی آئی اے کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ایران نے نہ صرف اپنی زیرِ زمین میزائل سائٹس کو دوبارہ فعال کر لیا ہے بلکہ تباہ شدہ ہتھیاروں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئے میزائلوں کی تیاری بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔
انٹیلیجنس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کو کم از کم 3 سے 4 ماہ تک باآسانی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی قیادت کی مشکلات برداشت کرنے کی قوت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ نکلی ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق، حالیہ حملوں نے ایرانی قیادت کو پسپائی پر مجبور کرنے کے بجائے مزید سخت اور پرعزم بنا دیا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے طویل ہونے کی جانب اشارہ ہے۔

