پاکستان کی عالمی سفارت کاری کی بڑی فتح؛ امریکی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کو ‘قابلِ اعتماد ثالث’ قرار دینے کی قرارداد پیش

واشنگٹن: ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو عالمی سطح پر بڑی پذیرائی مل گئی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کی ان کوششوں کو سراہنے کے لیے ایک خصوصی قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں پاکستان کو ایک ‘غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث’ قرار دیا گیا ہے۔

یہ قرارداد امریکی کانگریس کے معروف رکن آل گرین نے ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے اخراجات ایک ارب ڈالر یومیہ تک پہنچ چکے تھے اور عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک کلیدی سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔

قرارداد میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان نے سفارتی وفود کی میزبانی کے لیے شہروں کی بندش جیسی مشکلات برداشت کیں تاکہ تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

قرارداد میں جنگ کے تباہ کن اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس تنازع کے نتیجے میں 32 لاکھ افراد بے گھر ہوئے جبکہ امریکی فوج کے 13 اہلکار ہلاک اور 400 کے قریب زخمی ہوئے۔

متن میں زور دیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی سہولت کاری نے مزید جانی و مالی نقصان روکنے میں مدد دی۔ کانگریس رکن آل گرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ کردار اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔