بی سی سی آئی آئی پی ایل میں ‘گرل فرینڈز کلچر’ سے پریشان؛ کھلاڑیوں کی پارٹنرز کے لیے سخت قوانین لانے کا فیصلہ
بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دوران کھلاڑیوں کی خواتین دوستوں یعنی ‘گرل فرینڈز کلچر’ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے نئے قوانین بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، بورڈ کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کی پارٹنرز کی حد سے زیادہ مداخلت اور عوامی مقامات پر موجودگی سے لیگ اور بورڈ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہاردک پانڈیا، یشسوی جیسوال، ایشان کشن اور ارشدیپ سنگھ جیسے نامور کھلاڑیوں کی پارٹنرز نہ صرف ٹیم کی بسوں میں سفر کرتی ہیں بلکہ ٹیم ہوٹل میں بھی مقیم رہتی ہیں۔ بورڈ حکام نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر اوقات ٹیم بسوں کی روانگی میں تاخیر انھی پارٹنرز کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بورڈ کو سب سے زیادہ تشویش ان پارٹنرز پر ہے جو سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں اور جوئے (Betting) کی ایپس کی تشہیر میں ملوث ہیں، جس سے کرپشن کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
بی سی سی آئی کے آفیشلز کا کہنا ہے کہ ماضی میں کھلاڑیوں اور ان کی پارٹنرز کے معاملات پولیس شکایات تک بھی پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث اب ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) کو بھی باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔
بورڈ کے اگلے اجلاس میں نئے قوانین متعارف کرائے جائیں گے جن کے تحت کھلاڑیوں کی پارٹنرز کی نقل و حرکت اور ٹیم کے ساتھ قیام و طعام پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان ضوابط کا اطلاق صرف آئی پی ایل ہی نہیں بلکہ بھارتی نیشنل ٹیم پر بھی ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں اور نجی زندگی کے درمیان ایک واضح حد قائم ہو سکے گی، تاہم اس پر کرکٹ حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل آنے کا امکان ہے۔

