وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ عدالتی فیصلے 90 دن میں سنانا لازمی قرار، تاخیر پر فیصلہ کالعدم ہو سکے گا
وفاقی آئینی عدالت نے ملک میں انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں عدالتی فیصلے مہینوں محفوظ رکھنے اور سنانے سے قبل ان کے نکات لیک ہونے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ سات صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ ہر صورت 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز ‘قانون’ کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ فیصلے کے مطابق، اگر کوئی فیصلہ مقررہ مدت (90 دن) کے بعد سنایا جاتا ہے، تو اسے محض اسی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا کہ فیصلے محفوظ ہونے کے بعد فریقین اپنے حقوق کے لیے طویل انتظار کرتے رہتے ہیں، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
عدالت نے قبل از وقت فیصلہ لیک ہونے کے معاملے پر بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بنچ ممبران یا عدالتی عملے کی جانب سے جانے انجانے میں فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے۔ ایسی صورتحال میں بنچ کا سربراہ ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، اور یہ سماعت وہی بنچ یا کوئی دوسرا بنچ بھی کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹس میں ایسے معاملات متعلقہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔
یہ فیصلہ پاکستان شپنگ کارپوریشن کی جانب سے پنشن کی ادائیگی کے کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سامنے آیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے نوٹ کیا کہ موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ 10 ماہ تک محفوظ رکھنے کے بعد سنایا تھا۔ عدالت نے شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز کو حذف کر دیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کی نقول تمام ہائی کورٹس کو عملدرآمد کے لیے بھجوانے کا حکم دیا ہے تاکہ زیرِ التواء مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔

