متحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے؛ فجیرہ کی آئل تنصیب میں آگ لگ گئی، 3 بھارتی شہری زخمی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں میزائل شکن دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر کے فعال کر دیا گیا ہے۔ اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق، ایران کی جانب سے مجموعی طور پر چار میزائل داغے گئے، جن میں سے تین کو دفاعی نظام نے فضا میں ہی کامیابی سے تباہ کر دیا، جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں جا گرا۔

وزارتِ دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائلوں کو فضا میں روکنے اور تباہ کرنے کا نتیجہ تھیں۔ اماراتی حکام نے ان حملوں کو ملکی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ اور سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، ریاست فجیرہ کے صنعتی علاقے میں ایک پیٹرولیم تنصیب کو ایرانی ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق، اس حملے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں "دھوکہ دہی” پر مبنی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ان حملوں کا جواب دینے کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے کیونکہ یہ علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی دانستہ کوشش ہے۔

یاد رہے کہ آج ہی کے روز آبنائے ہرمز میں بھی یو اے ای کی سرکاری تیل کمپنی کے ایک آئل ٹینکر پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ جہاز خالی ہونے کے باعث کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔