امریکی بحریہ کی جانب سے خلیجِ عمان میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر قبضے میں لیے گئے ایرانی کارگو جہاز ‘ایم وی توسکا’ اور اس کے عملے کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا اور سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، یہ منتقلی ایران کو واپسی کے عمل کو سہل بنانے کے لیے کی گئی ہے، جس میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز کا 22 رکنی عملہ بحفاظت پاکستان پہنچا تھا، جنہیں قانونی کارروائی کے بعد ایران منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ نے بھی عملے کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 15 ارکان کو بلوچستان میں گوادر کے قریب ‘گبد رمیدان’ کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے ایرانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بحری جہاز توسکا اس وقت پاکستانی سمندری حدود میں موجود ہے اور ضروری مرمت کے بعد اسے اصل مالکان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان "اعتماد سازی” کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ ایم وی توسکا کو 19 اپریل کو امریکی بحری افواج نے اس وقت تحویل میں لیا تھا جب اس نے مبینہ طور پر ناکہ بندی کی ہدایات کو نظر انداز کیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، جہاز پر وارننگ نظر انداز کرنے کے الزام میں فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ عملے کے 6 ارکان کو گزشتہ ہفتے ہی ایک اور ملک کے ذریعے واپس بھیجا گیا تھا جبکہ بقیہ ارکان اب پاکستان کے راستے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی عملے کی منتقلی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور اسے پاک-ایران برادرانہ تعلقات اور پاک-امریکا سفارتی توازن کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

