عالمی یومِ آزادیِ صحافت؛ "سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں”، صدر اور وزیراعظم کا صحافیوں کو خراجِ تحسین اور فیک نیوز کے خلاف متحد ہونے کا عزم

​وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر صحافیوں، رپورٹرز اور مدیران کو ان کی بے لوث خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستند اور غیر جانبدارانہ خبروں کی فراہمی ہی اصل صحافت کی اساس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروپیگنڈہ اور فیک نیوز کو روکنا ہر صحافی کا پیشہ ورانہ اور سماجی فرض ہے کیونکہ غلط معلومات قومی ہم آہنگی کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں۔

​وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سال کا عنوان "پرامن مستقبل کی تشکیل” عصرِ حاضر کی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران قومی میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے قومی یکجہتی اور پاکستان کے مؤقف کو وضاحت اور تحمل کے ساتھ پیش کر کے غلط معلومات کا مؤثر تدارک کیا۔ انہوں نے صحافی برادری سے اپیل کی کہ ڈیجیٹل دور کی مسابقت میں سچائی اور دیانت کے معیار کو مقدم رکھا جائے۔

​دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ سچائی کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں اور آزاد میڈیا قوم کی مضبوطی کی علامت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈس انفارمیشن جمہوری مکالمے کو مسخ کر رہی ہے اور سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال تشویشناک ہے۔ صدر زرداری نے یاد دلایا کہ آئین کا آرٹیکل 19 آزادیِ صحافت کی ضمانت دیتا ہے، جو احتساب اور شفافیت کے لیے ناگزیر ہے۔

​صدر مملکت نے زور دیا کہ صحافت میں خبر کی رفتار کے بجائے درستی کو ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ پاکستان کے خلاف منظم جھوٹی مہمات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے شہید صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ اور ہراسانی کے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

​وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام کے آخر میں حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزادیِ صحافت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ خود کو ڈیجیٹل میدان کی جدت سے ہم آہنگ کریں تاکہ پاکستان کا نقطۂ نظر عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے اور ایک باوقار پاکستان کی تعمیر ممکن ہو۔