امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور معطل امن مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے اپنی سخت شرائط میں نمایاں نرمی کر دی ہے۔ تہران کی جانب سے دی گئی نئی تجویز میں یہ اہم پیشکش کی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط اور امریکا کی جانب سے حملے بند کرنے کی ضمانتوں پر اب ایک ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔
اس سے قبل ایران کا دوٹوک مؤقف تھا کہ امریکا مذاکرات سے پہلے اپنی ناکہ بندی ختم کرے اور جنگ کے خاتمے کی تمام شرائط پر اتفاق کرے، جس کے بعد ہی آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات پر بات ہوگی۔ تاہم نئی تجویز کے مطابق، ایران اب اس بات پر آمادہ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے خاتمے کی ضمانت اور آبنائے ہرمز کے انتظام پر بیک وقت گفتگو کا آغاز کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو بھی میز پر لانے کا اشارہ دیا ہے، لیکن اسے امریکی پابندیوں میں ریلیف کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شرائط میں یہ لچک اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تہران سفارتی حل کے ذریعے جنگ بندی اور معاشی ریلیف حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر امریکا اس نئی اور نرم تجویز پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو، تو ایرانی وفد آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہی پاکستان میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک کلیدی پل کا کردار ادا کر رہا ہے جہاں دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات متوقع ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر امریکا اس پیشکش کو قبول کر لیتا ہے تو نہ صرف عالمی سطح پر ایندھن کی ترسیل کے لیے اہم راستہ (آبنائے ہرمز) کھلنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے بلکہ خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔

