امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع سے جلد بازی میں باہر نہیں نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت ادھورے مقاصد کے ساتھ انخلا کیا گیا تو یہ مسئلہ چند سال بعد دوبارہ سراٹھا سکتا ہے، اس لیے اس بار مکمل اور دیرپا حل تک کارروائی جاری رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا بروقت کارروائی نہ کرتا تو اب تک اسرائیل اور یورپ کے "پرزے پرزے” کیے جا چکے ہوتے، اس لیے یہ اقدامات عالمی امن کے لیے ناگزیر تھے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران کی عسکری صورتحال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب تہران کے پاس نہ تو بحریہ اور فضائیہ بچی ہے اور نہ ہی کوئی قیادت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پہلے اور دوسرے درجے کی قیادت ماری جا چکی ہے، اور اگرچہ قیادت کے خاتمے پر افسوس ہے لیکن یہ لوگ برے تھے جنہوں نے ہزاروں مظاہرین کو نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ وہاں اس وقت تیل سے بھرے تقریباً 400 بحری جہاز کھڑے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر یہ راستہ کھل گیا اور جہازوں کی ترسیل بحال ہو گئی تو عالمی سطح پر ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ماضی کی امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف یہ اقدامات پچھلے صدور کے دور میں ہی ہو جانے چاہیے تھے۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ویت نام میں 19 اور عراق میں 12 سال گزارے، جبکہ ایران میں ابھی صرف 6 ہفتے ہوئے ہیں، اس لیے اتنی جلدی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

