ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عالمی سطح پر سفارتی رابطوں کو تیز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور توسیع پسندانہ رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ واشنگٹن دھمکیوں کی سیاست ترک کرے۔
عباس عراقچی نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے اہم ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں کے دوران انہوں نے ان ممالک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایران کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس پورے عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو ‘باضابطہ ثالث’ کی حیثیت حاصل ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اگر فریقین کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا تو اس کا باقاعدہ اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط ایسی ہیں جن سے فی الحال اتفاق ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ ان کا اشارہ تہران کے ان مطالبات کی جانب ہے جو امریکا کے نزدیک ناقابلِ قبول سمجھے جا رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا علاقائی وزرائے خارجہ سے رابطہ اور پاکستان پر اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ تہران تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے، لیکن گیند اب واشنگٹن کے کورٹ میں ہے کہ وہ تہران کی شرائط اور پاکستان کے ثالثی کردار کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔
