کراچی: روشنیوں کا شہر جرائم کے اندھیروں میں ڈوبنے لگا، جہاں اب عام شہریوں کے ساتھ ساتھ معروف شخصیات بھی محفوظ نہیں۔ پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی نے کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی بگڑتی صورتحال کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ محض 90 دنوں کے دوران تین بار مسلح ڈکیتوں کا نشانہ بنے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری ایک مایوس کن بیان میں دیپک پروانی نے بتایا کہ مختلف مواقع پر مسلح ملزمان ان سے گاڑی، موٹر سائیکل اور بھاری نقد رقم چھین کر باآسانی فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات اب انفرادی نہیں رہے بلکہ پورا شہر اس وقت جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہے۔
دیپک پروانی نے مزید بتایا کہ نہ صرف وہ خود بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والا عملہ بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایک ملازم کے گھر میں صرف ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ چوری کی واردات ہوئی جبکہ ایک اور ملازم کے بیٹے کو بھتہ نہ دینے پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
فیشن انڈسٹری کے بڑے نام کی جانب سے اس دہائی کے بعد سوشل میڈیا پر شہریوں کا شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ صارفین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر معروف شخصیات اتنی غیر محفوظ ہیں تو عام آدمی کا پرسانِ حال کون ہوگا؟
دیپک پروانی، جو دنیا کا سب سے بڑا کرتا ڈیزائن کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں، ان کے ساتھ پیش آنے والے پے در پے واقعات نے کراچی میں سیکیورٹی کی سنگینی کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔

