سعودی عرب کی قیادت میں 14 ممالک کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد قائم

ریاض: بحیرہ احمر میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور تجارتی راستوں پر حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کی قیادت میں 14 ممالک نے ‘باب المندب’، ‘بحیرہ احمر’ اور ‘خلیجِ عدن’ میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد قائم کرنے کی باضابطہ حمایت کر دی ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے زیرِ اہتمام منعقدہ اہم اجلاس میں پاکستان سمیت 43 ممالک کے سربراہانِ افواج، نمائندوں اور یورپی یونین کے وفد نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر 51 ممالک اور تنظیموں کو مدعو کیا گیا تھا، جہاں عالمی سپلائی چین اور تجارتی ٹینکروں کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

اتحاد کا ڈھانچہ اور ہیڈکوارٹر:

  • قیادت و ہیڈکوارٹر: اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اس کثیر القومی میری ٹائم الائنس کا بانی اور سربراہ سعودی عرب ہوگا، جبکہ اس کا مستقل ہیڈکوارٹر بھی سعودی عرب میں ہی قائم کیا جائے گا۔
  • اتحادی ممالک: پاکستان، ترکیہ، مصر، سوڈان، کویت، بحرین، قطر، اردن، یمن، بنگلا دیش، نائیجیریا، جبوتی، صومالیہ اور سعودی عرب نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔
  • کھلا بین الاقوامی اقدام: سعودی حکام کے مطابق دیگر ممالک بھی اپنے داخلی و قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد اس کھلے دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکیں گے۔

یہ اہم پیش رفت بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور بحری ناکہ بندی کے اعلانات کے بعد سامنے آئی ہے، جس کا مقصد عالمی تجارت، آزادانہ جہاز رانی اور سمندری خطے کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔