لندن: حقوقِ انسان کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی مسلسل برآمدات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی میں شراکت داری کا واضح خطرہ موجود ہے۔
‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے "میڈ ان انڈیا” کے عنوان سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجارتی اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے 30 نومبر 2025ء کے دوران بھارت نے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود اور آلات کی کم از کم 2,596 کھیپیں روانہ کی ہیں۔
برآمد کیے گئے سامان میں شامل اہم ہتھیار اور پرزہ جات:
- چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے اور توپ خانے کے گولوں کے خول
- ‘لوئٹرنگ میونیشنز’ (کامیکازے ڈرونز) کے لیے دھماکا خیز وارہیڈز
- یہ سامانوں کی کھیپیں اسرائیلی دفاعی کمپنیوں ‘ایلبٹ سسٹمز’ (Elbit Systems)، ‘رافیل’ (Rafael) اور ‘اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز’ کو بھیجی گئیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نشاندہی کی ہے کہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والی بیشتر بھارتی سپلائر کمپنیاں براہِ راست بھارتی حکومت کی ملکیت یا اس کے کنٹرول میں ہیں، جس کے باعث بھارت بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں مکمل ناکام رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت اسرائیل کو تمام تر عسکری سامان کی منتقلی فوری طور پر روکے۔ انہوں نے بتایا کہ 2026ء کے وسط میں بھارتی حکومت اور متعلقہ 9 کمپنیوں کو تحریری خطوط ارسال کیے گئے تھے، تاہم ان کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت تک کوئی موقف یا جواب سامنے نہیں آیا۔

