آبنائے ہرمز کو واگزار کرانے کے لیے امریکہ کا نیا عالمی منصوبہ؛ ‘میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ’ کے نام سے بحری اتحاد بنانے کی تیاری
واشنگٹن: خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے عالمی سمندری گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی اتحاد کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے اس منصوبے کو ’Maritime Freedom Construct‘ (ایم ایف سی) کا نام دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کے روز دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت خانوں کو ایک خصوصی ‘کیبل’ ارسال کی ہے، جس میں سفارتکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو اس نئے معاہدے اور اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔
یہ اتحاد معلومات کے تبادلے، سفارتی ہم آہنگی اور ایران پر عائد پابندیوں کے مؤثر نفاذ پر کام کرے گا۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کے پاس موجود کئی اہم سفارتی آپشنز میں سے ایک ہے۔
اس منصوبے کے تحت امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کمرشل شپنگ کے لیے ‘ریئل ٹائم’ بحری معلومات فراہم کرے گی اور شراکت دار ممالک کی افواج کے درمیان رابطوں کو مربوط بنائے گی۔
دوسری جانب، ایک اہم پیش رفت میں امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘جیرالڈ فورڈ’ کو مرمت کے لیے جلد مشرقِ وسطیٰ سے نکالا جا رہا ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
امریکہ کے اس اقدام کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کر دیا ہے کہ خلیجِ فارس کا مستقبل امریکہ کی موجودگی کے بغیر ہی روشن ہوگا اور خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ایرانی موقف کے مطابق، خطے میں عدمِ تحفظ کی سب سے بڑی وجہ امریکی فوجی موجودگی اور ان کے اڈے ہیں۔

