"آبنائے ہرمز سب کے لیے کھولی جائے”؛ پاکستان کا عالمی تجارتی گزرگاہ پر کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے بعد سفارتی رابطوں کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ کامیابی سے جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین نے پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس وقت تمام نئی و پرانی تجاویز زیرِ غور ہیں، جنہیں خفیہ رکھتے ہوئے سفارتی چینلز کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ترجمان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کی شہ رگ ہے۔ وہاں کشیدگی کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لہٰذا پاکستان فوری طور پر اس گزرگاہ کو مکمل بحال کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔

طاہر اندرابی نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان فورسز کی جانب سے کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ 29 اپریل اور اس کے بعد ہونے والے ان حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد عام شہری زخمی ہوئے اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔

ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے لیے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی انجینئرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

دیگر اہم معاملات:

بھارتی اقدامات کی مذمت: پاکستان نے مقبوضہ لداخ میں نئے اضلاع بنانے کے بھارتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مقبوضہ وادی کی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش قرار دیا ہے۔

کمبوڈیا میں پھنسے پاکستانی: کمبوڈیا میں 84 پاکستانی (76 مرد، 8 خواتین) زیرِ حراست ہیں، جن میں سے اکثر سیاحتی ویزے پر غیر قانونی ملازمتوں اور آن لائن فراڈ اسکیموں میں ملوث پائے گئے۔ پاکستانی مشن ان کی واپسی کے لیے انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔

صومالیہ میں مغوی پاکستانی: 21 اپریل کو صومالی بحری قزاقوں نے ایک ٹینکر سے 11 پاکستانیوں کو یرغمال بنایا۔ حکومتِ پاکستان اس معاملے پر صومالی حکومت اور ٹینکر کے مالکان سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ شہریوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جا سکے۔