دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب؛ آپریشن ‘غضب للحق’ کی کامیابی سے بوکھلا کر القاعدہ بھی افغان طالبان کی حمایت میں میدان میں آگئی
راولپنڈی: طالبان دورِ حکومت میں افغانستان عالمی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ ترین پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں سے اب پاکستان کی سلامتی کے خلاف کھلے عام سازشیں کی جا رہی ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پاک فوج کے کامیاب آپریشن ‘غضب للحق’ نے سرحد پار موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ اب عالمی دہشت گرد تنظیم ‘القاعدہ’ بھی افغان طالبان کی حمایت میں سامنے آگئی ہے۔
القاعدہ کی جنرل کمان نے پاکستان کے خلاف سخت لہجے میں بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پوری استطاعت کے ساتھ طالبان رجیم کا ساتھ دے گی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج اور دیگر گروہوں کو پاکستان کے خلاف بطور "اسٹریٹیجک ایسٹ” استعمال کر رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں افغانستان کے صوبہ کنڑ سے فتنہ الخوارج کے کمانڈر عبدالحمید خراسانی کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں وہ پاکستان پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔ خراسانی کا کہنا ہے کہ اس کے مسلح جنگجو احکامات کے منتظر ہیں تاکہ پاکستانی فوج کو جواب دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، خارجی کمانڈر کا افغان قیادت کے دفاع کی بات کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کابل رجیم ہی اس فتنے کی اصل ماسٹر مائنڈ ہے۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ نے جولائی 2025 میں بھی افغان طالبان کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
پاکستان نے ‘غضب للحق’ کے تحت افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ القاعدہ اور خوارج کا حالیہ اشتراک اس بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو پاکستانی فورسز کی موثر کارروائیوں کے باعث دہشت گردوں کی صفوں میں پیدا ہوئی ہے۔

