"خلیجِ فارس میں امریکی اڈے عدمِ تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہیں”؛ سپریم لیڈر کا خلیجی ہمسایہ ممالک کو اہم پیغام
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ‘نیشنل پرشین گلف ڈے’ کے موقع پر عالمی طاقتوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کا مستقبل اب امریکہ کی موجودگی کے بغیر ہی روشن ہوگا۔
تہران کے ریاستی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سپریم لیڈر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو ماہ کی کشیدگی اور ‘امریکی مہم جوئی’ کی شرمناک ناکامی کے بعد خطے میں ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے، جہاں غیر ملکی عناصر کے لیے اب کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ میں ایرانی عوام نے اپنی افواج کی ثابت قدمی اور بہادرانہ جدوجہد کے "خوبصورت مظاہر” دیکھے ہیں۔
انہوں نے خطے میں عدمِ تحفظ کا ذمہ دار امریکی فوجی اڈوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ "امریکہ کے کٹھ پتلی اڈے جب اپنی سلامتی کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو وہ اپنے حامیوں کو کیا تحفظ فراہم کریں گے؟”
سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ خلیجِ فارس کے ممالک کا مقدر مشترکہ ہے اور خطے کی ترقی و خوشحالی غیر ملکی مداخلت کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔
جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکی صدر کے مطالبات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کا اسی طرح تحفظ کرے گا جیسے اپنی زمین اور فضائی سرحدوں کا کرتا ہے۔
انہوں نے ان اثاثوں کو "قومی سرمایہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ پیغام 1622 میں آبنائے ہرمز سے پرتگالی افواج کے انخلا کی یاد میں منایا جاتا ہے، جسے ایران اپنی خود مختاری اور سامراجی طاقتوں کی شکست کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

