"سمندری قزاقی بند کرو ورنہ یادگار سبق سکھائیں گے”؛ ایران کا امریکہ کو آخری انتباہ

تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کے خلاف سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی کارروائی کرے گا جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔

ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ‘سمندری قزاقی’ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی تجارت میں مداخلت اور ایرانی املاک پر غیر قانونی قبضہ کر رہا ہے، جس کا بھرپور جواب دینے کا تہران کو پورا حق حاصل ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ فورسز کی عسکری تیاری مکمل ہے اور ممکنہ اہداف کی فہرستیں مسلسل اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ "اگرچہ کاغذوں پر جنگ بندی ہے، لیکن ہم اسے جنگ کا خاتمہ نہیں سمجھتے، ہم کسی بھی وقت کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں”۔

ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے بھی واضح کیا کہ امریکی ناکہ بندی کا اصل مقصد ایران کو معاشی طور پر اندر سے توڑنا ہے، جبکہ تہران کے اتحادی یمن نے بھی باب المندب کو بند کر کے امریکہ کو بڑا دھچکا دینے کا اشارہ دے دیا ہے۔

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے ایران کی حالیہ تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اب بار بار 18 گھنٹے کا سفر کر کے مذاکرات نہیں ہوں گے، بلکہ بات چیت صرف ٹیلی فون پر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اس کے بنیادی ڈھانچے پر ‘مختصر مگر طاقتور’ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ تہران کو لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکے۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان حملوں کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات عالمی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت پر انتہائی تباہ کن ہوں گے۔