اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد پاکستان دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں آج وفاقی دارالحکومت میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور فیصلہ کن مذاکرات کا پہلا دور شروع ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، وفود کی سطح پر ابتدائی بات چیت آج ہو گی جس میں ہفتے کو ہونے والے مرکزی مذاکرات کا ایجنڈا طے کیا جائے گا۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جن کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے۔ ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فریقین کو قریب لانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی ناظم الامور سے ملاقات میں واضح کیا کہ آنے والے تمام مہمان پاکستان کے خصوصی مہمان ہوں گے، جن کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور مذاکرات ایک خفیہ و محفوظ مقام پر میڈیا کی رسائی سے دور منعقد کیے جائیں گے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں پرانی دشمنی کو ختم کرنے اور وسیع تر استحکام کی راہ ہموار کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پیش کیے جانے کا امکان ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں پر پابندی اور آبنائے ہرمز کی سلامتی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران نے 10 نکاتی فریم ورک تیار کیا ہے جس میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ، تیل کی برآمدات میں آسانی اور مستقبل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف مضبوط ضمانتیں طلب کی گئی ہیں۔
پاکستان نے نہ صرف ان مذاکرات کے لیے میزبانی فراہم کی ہے بلکہ حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں تہران کو صبر و تحمل پر قائل کر کے جنگ بندی کو ٹوٹنے سے بچایا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت ایک ‘پاور فل نیگوشی ایٹر’ کے طور پر مستحکم ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق، یہ مذاکرات بند کمروں میں ہوں گے اور امریکہ صرف وہی معاہدہ کرے گا جو اس کے بہترین مفاد میں ہو۔ پاکستان نے اس عمل کو ہموار بنانے کے لیے غیر ملکی مندوبین اور صحافیوں کو ‘ویزا آن ارائیول’ کی خصوصی سہولت بھی فراہم کر دی ہے تاکہ کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
20 دن سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں مخالف ممالک بالمشافہ ملاقات کے لیے تیار ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے مقام کا دورہ کر کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
عالمی برادری ان مذاکرات کو ایک بڑے معجزے کے طور پر دیکھ رہی ہے، جہاں پاکستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے تعاون سے تیار کردہ ڈرافٹ کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کر خطے کو ایک ہولناک جنگ سے بچا لیا ہے۔

