پاکستانی سفارت کاری کی عالمی سطح پر دھوم، بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کو امن کا معتبر ضامن قرار دے دیا

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی تاریخی جنگ بندی کے بعد بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کے جرأت مندانہ موقف اور کامیاب سفارت کاری کے چرچے ہو رہے ہیں۔

دنیا بھر کے معتبر اور مؤقر ذرائع ابلاغ نے پاکستان کی مدبرانہ تجویز کو اپنی سرخیوں کی زینت بنایا ہے اور اس اعتراف کے ساتھ سراہا ہے کہ جب دنیا ان فیصلہ کن لمحات میں دم سادھے کھڑی تھی، تب پاکستان نے ایک ‘نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر’ کے طور پر ابھر کر ممکنہ عالمی تباہی کو روک دیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں کی جانے والی ان تھک کوششوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا سب سے بااعتماد ضامن ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی رات گئے تک جاری رہنے والی سفارتی مصروفیات اور دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطوں کو بھی بین الاقوامی دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

خلیجی میڈیا، بالخصوص قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ اور گلف نیوز نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے دیرینہ اور گہرے تعلقات کی بنیاد پر بہترین مصالحتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو ایک ‘طاقتور ثالث’ کے طور پر پیش کیا، جبکہ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو نمایاں کیا جس میں انہوں نے خود تسلیم کیا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد ہی جنگ روکنے پر آمادہ ہوئے۔

برطانوی ادارے بی بی سی نے بھی پاکستان کی کئی ہفتوں پر محیط مسلسل سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے خطے کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

پاکستان کی اس مؤثر ملٹری ڈپلومیسی اور سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ نے تبصرہ کیا کہ پاکستان نے خطے کو ایک بڑے تباہ کن تصادم سے بچا کر اپنی اہمیت منوائی ہے۔ حتیٰ کہ بھارتی اخبار ‘دی ہندو’ نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو نمایاں طور پر پیش کیا ہے۔

معاشی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ان حساس لمحات میں جس دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، اس نے نہ صرف جنگ کے پھیلاؤ کو روکا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی قوت اور ذمہ دارانہ کردار کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی یہ کامیاب ثالثی اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک کلیدی اور بااثر قوت کے طور پر ابھرا ہے، جس کی آواز اب دنیا بھر میں معتبر مانی جا رہی ہے۔