واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اب تک کا خوفناک ترین بیان جاری کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کردہ اپنے تازہ پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ اب بالآخر اپنے خاتمے کے قریب ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر ایسا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا، تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ چونکہ اب وہاں مکمل طور پر رجیم تبدیل ہو چکی ہے اور زیادہ سمجھدار و کم شدت پسند لوگ غالب آ رہے ہیں، اس لیے شاید کوئی انقلابی اور شاندار مثبت تبدیلی بھی رونما ہو جائے۔ انہوں نے ایران کے عوام کے لیے دعائیہ کلمات لکھتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحات ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تازہ ترین ڈیڈ لائن آج بدھ کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق 5 بجے ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو متعدد بار الٹی میٹم دے چکے ہیں۔ پہلی ڈیڈ لائن 21 مارچ کو دی گئی تھی جس میں 48 گھنٹوں کے اندر آبی گزرگاہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں مختلف ممالک سے مذاکرات کے حوالے دے کر 27 مارچ اور پھر 6 اپریل تک بڑھایا گیا۔ تاہم، 3 اپریل کو ایک بار پھر 48 گھنٹوں کی وارننگ دی گئی اور 5 اپریل کو جاری کردہ ایک سخت بیان میں منگل کے دن کو ‘پاور پلانٹ اور برج کا دن’ قرار دیتے ہوئے اسے حملوں کے لیے حتمی وقت مقرر کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اگرچہ ایران کی دی گئی تجاویز اچھی ہیں لیکن وہ اتنی اہم نہیں جتنی امریکہ کی اپنی شرائط ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ان کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض 12 گھنٹے قبل سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمد و رفت کے لیے نہ کھولا تو امریکہ منگل کی شام (امریکی وقت کے مطابق) سے ایران کے اہم انفراسٹرکچر بشمول بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانا شروع کر دے گا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کا موقف ہے کہ جب تک ان کی سیاسی قیادت چاہے گی وہ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں، جبکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ وقتی جنگ بندی کے بجائے تمام مسائل کا مستقل حل چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اب تمام نظریں بدھ کی صبح 5 بجے پر لگی ہوئی ہیں۔

