پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے، محمد بن سلمان کا خطے میں امن کے لیے پاکستانی سفارتی کوششوں کا اعتراف
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے سعودی عرب کی الجبیل آئل فسیلیٹی پر ہونے والے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی اور مملکت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستانی حکومت اور عوام ہمیشہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اسی طرح شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے جس طرح سعودی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
وزیراعظم نے جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور پرتپاک سلام کا پیغام بھی پہنچایا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اس رابطے کو مبصرین خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں برادر ممالک کی مشترکہ کاوشوں اور دیرینہ تعلقات کی مضبوطی کی اہم کڑی قرار دے رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ سنگین کشیدگی کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے دکھائے گئے تحمل اور دانشمندی کے مظاہرے کو سراہا۔
انہوں نے سعودی ولی عہد کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ سفارتی کاوشوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دیگر عالمی ممالک کے ساتھ مل کر امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا اور پاکستان کی جانب سے مسلسل تعاون اور حمایت کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 حملہ آور ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ پاکستان کی کور کمانڈرز کانفرنس نے بھی سعودی عرب پر ہونے والے ان حملوں کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔
عسکری قیادت کا موقف ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملے پرامن طریقے سے تنازعات کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر واضح کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور اصولی سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے تاکہ خطے کو مزید کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

