پاکستان کا متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا فیصلہ، متبادل رقم کا بندوبست مکمل

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے تمام واجب الادا قرضے رواں ماہ ہی واپس کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ متبادل ذرائع سے مطلوبہ رقم کا بندوبست ہونے کے بعد کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کو دو دوست ممالک کی جانب سے 5 ارب ڈالر سے زائد کی فراہمی کی پختہ یقین دہانی مل چکی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کو رواں سال جون تک مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر کی مختلف بین الاقوامی ادائیگیاں کرنی ہیں، جن کے لیے حکومت نے پہلے ہی تمام تر ضروری مالیاتی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 78 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، تاہم حالیہ یقین دہانیوں سے معاشی استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالرز کے تین مختلف فورمز پر ادائیگیاں کرنی ہیں۔ ان ادائیگیوں میں 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی شامل ہے جو اپنی دس سال کی مدت پوری کرنے کے بعد میچور ہو چکا ہے۔

یورو بانڈ کی یہ بھاری ادائیگی اسی ہفتے کی جائے گی جس کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی اسی ماہ واپس کیے جائیں گے، جن کی واپسی کے لیے متبادل فنڈز کا حصول حکومت کی ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی بروقت یقین دہانی نے پاکستان پر عالمی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کر دیا ہے۔ حکومت اس ماہ امارات کے 2 ارب ڈالر اور یورو بانڈ کے 1.3 ارب ڈالر واپس کر کے اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہے۔

اس سے قبل یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ متحدہ عرب امارات نے ان ڈپازٹس میں مختصر مدت کی توسیع کی تھی، لیکن اب حکومت نے سود سمیت تمام رقم واپس کرنے کو ترجیح دی ہے۔ یہ ادائیگیاں پاکستان کے معاشی مستقبل اور دوست ممالک کے ساتھ مالیاتی تعلقات کے نئے ڈھانچے کی تشکیل میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔