آپریشن غضب الحق کی تفصیلات جاری، سینکڑوں دہشت گرد ہلاک اور افغان طالبان کی درجنوں چوکیاں تباہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب الحق کی تازہ ترین اور مفصل تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 796 فتنہ الخوارج اور افغان طالبان ہلاک جبکہ 1043 زخمی ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی 286 چوکیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ 44 اہم چوکیوں پر فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران دشمن کے متعدد ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپیں اور ڈرون بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

عطا تارڑ نے انکشاف کیا کہ افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے 81 ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2 اور 3 اپریل کی درمیانی رات غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی بزدلانہ کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 37 حملہ آوروں کو ہلاک اور 80 سے زائد کو زخمی کر دیا گیا۔

دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان ترجمان حمد اللہ فطرت کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔

وزارت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان رجیم کے ترجمان ایک بار پھر من گھڑت بیانات کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے صرف فتنہ الخوارج اور ان کے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے جس کی باقاعدہ ویڈیوز اور اعداد و شمار موجود ہیں۔

اس کے برعکس پوری دنیا بھارتی سرپرستی میں قائم افغان طالبان رجیم اور اس کی دہشت گرد پراکسیز کے حملوں کی گواہ ہے، جیسا کہ حالیہ حملہ ڈومیل بنوں میں ہوا جہاں خواتین اور بچوں سمیت 10 معصوم شہری شہید ہوئے۔

وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان شہریوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جن کی تفصیلات 5 اپریل کو بلوچستان کے وزیر داخلہ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں پیش کی تھیں۔

حکومتی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد قیادت کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، جس کی تصدیق اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی رپورٹس بھی کر چکی ہیں۔

حمد اللہ فطرت اور افغان رجیم کے دیگر ترجمان باقاعدگی سے جعلی، پرانی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پروپیگنڈا ویڈیوز کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جنہیں صرف ان کے بھارتی آقاؤں اور مخصوص پروپیگنڈا نیٹ ورکس کی سرپرستی حاصل ہے۔

وفاقی حکومت نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن غضب الحق جاری رہے گا، کیونکہ سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔