تہران: ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز پر اپنا باضابطہ ردعمل پاکستان کو بھجوا دیا ہے جس میں ایرانی موقف انتہائی سخت نظر آتا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تہران نے فی الوقت جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں محض وقتی توقف کے بجائے جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے۔
ایران کی جانب سے پاکستان کو ارسال کیے گئے جواب میں 10 اہم نکات شامل ہیں جن میں خطے میں تنازعات کا مستقل حل، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے نیا ضابطہ کار، ایران پر عائد عالمی پابندیوں کا فوری خاتمہ اور امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تعمیر نو جیسے مطالبات کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس جنگ بندی کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ مشترکہ طور پر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انہی ممالک کی جانب سے دونوں فریقین کو ایک مفاہمتی ڈرافٹ پیش کیا گیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران جنگ بندی کی حالیہ تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عقلمند شخص موجودہ صورتحال میں ایسی شرائط قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی دراصل صرف ایک عارضی وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو اپنی طاقت دوبارہ مجتمع کرنے کا موقع مل جاتا ہے، جبکہ ایران کا اصل مطالبہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہے نہ کہ محض وقتی توقف۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایران صرف کاغذوں پر لکھی جنگ بندی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ اسے اس بات کی ٹھوس ضمانت چاہیے کہ مستقبل میں دوبارہ جارحیت نہیں ہوگی، اور یہ ضمانتیں کسی بین الاقوامی ادارے کے بجائے صرف طاقت اور بھرپور جوابی حملوں کی صلاحیت سے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان اور دیگر ثالث ممالک کی جانب سے پیش کیا گیا جنگ بندی منصوبہ ان بہت سی تجاویز میں سے ایک ہے جو اس وقت میز پر موجود ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال اس کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف ‘آپریشن ایپک فیوری’ تاحال پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ جنگ بندی کے اس مجوزہ منصوبے اور ایران کے 10 نکاتی جواب پر اپنا حتمی موقف اور آئندہ کی حکمت عملی پیش کریں گے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کے اس تازہ ردعمل کے بعد خطے میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر دھچکا لگنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

