دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق گمراہ کن تبصرے مسترد کر دیے

اسلام آباد: پاکستان کی وزارت خارجہ نے مرکزی بینک میں رکھے گئے متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے تبصروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں حقیقت کے منافی اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے اماراتی ذخائر بنیادی طور پر دو طرفہ تجارتی معاہدوں کا ایک اہم حصہ تھے اور حکومت پاکستان اب طے شدہ شرائط و ضوابط کے مطابق ان ذخائر کی مدت پوری ہونے پر یہ رقم واپس کر رہی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ بیرونی ذخائر کی یہ واپسی ایک مکمل طور پر معمول کی مالیاتی کارروائی ہے، اس لیے اسے کوئی دوسرا غلط رنگ دینا انتہائی گمراہ کن ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان انتہائی دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف اہم شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی عوام پاک امارات دوستی اور اس اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام میں شیخ زاید بن سلطان النہیان کے تاریخی کردار کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے مضبوط دوطرفہ معاشی و سفارتی تعلقات کو مستقبل میں مزید فروغ دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔