تہران: ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو دو ٹوک انداز میں سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جاری جنگ کے دائرہ کار میں مزید شدت آئی تو یہ پورا خطہ ان کے لیے جہنم بن جائے گا۔
ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب اب صرف مخصوص حدود تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ اس بار پورے خطے میں انتہائی سخت اور وسیع ردعمل سامنے لایا جائے گا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو شکست دینے یا زیر کرنے کا خواب دیکھنے والے اب جان لیں کہ یہ تصور ایک ایسی دلدل بن چکا ہے جس میں مخالفین خود بری طرح دھنس جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک بار پھر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کو دھمکی دی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو صرف 48 گھنٹوں کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یا تو کوئی نیا معاہدہ کر لے یا پھر عالمی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھول دے، ورنہ اس صورتحال میں ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی اور اسے سنگین ترین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ایران پر حملوں کے بعد سے اس اہم ترین گزرگاہ کی بندش نے بین الاقوامی منڈیوں میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان اس جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور یہ الٹی میٹم کسی نئے تصادم کی شکل اختیار کر گیا تو اس کے تباہ کن اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ کے خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن پر پڑ سکتے ہیں۔

