اسلام آباد: حکومت پاکستان نے شدید معاشی چیلنجز کے باوجود متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر کا قرض سود سمیت رواں ماہ کے آخر تک واپس کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ رقم پاکستان کے مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طور پر موجود تھی جس پر حکومت 6 فیصد کی شرح سے بھاری سود ادا کر رہی تھی۔
متحدہ عرب امارات پہلے اس رقم کو سالانہ بنیادوں پر رول اوور کر رہا تھا، تاہم دسمبر 2025 میں اس رقم کی مدت میں پہلے ایک ماہ اور پھر دو ماہ کی توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد اب اسے 17 اپریل 2026 کو واپس کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر امارات کی جانب سے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس بڑی ادائیگی کے ساتھ ہی حکومت رواں ماہ کے دوران مجموعی طور پر 3.5 ارب ڈالر کے 2 بڑے بیرونی قرضے واپس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے علاوہ، 8 اپریل 2026 کو یورو بانڈ کی مدت پوری ہونے پر 1.3 ارب ڈالر کی بھی ادائیگی کی جائے گی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے مزید ایک ارب ڈالر کے ڈپازٹس جولائی 2026 میں واجب الادا ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر کی پوری رقم ایک ساتھ واپس کرنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اگرچہ اسلام آباد کی جانب سے دوست ممالک سے عبوری مالی معاونت حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن تاحال اس پر کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت مقررہ تاریخ پر یہ رقم واپس کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے منفی تبصروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اماراتی مالی ذخائر سے متعلق حالیہ تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ذخائر دو طرفہ تجارتی معاہدوں کا حصہ تھے اور ان کی واپسی ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے، اس لیے اسے غلط رنگ دینا سخت گمراہ کن ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور پاکستان امارات کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔

