ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتیں بے قابو، فی کلو قیمت 500 روپے سے تجاوز کر گئی

کراچی: ملک بھر میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتیں تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

صارفین اور ڈیلرز کے مطابق کراچی سمیت مختلف بڑے شہروں میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 500 روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے اور دکاندار سرکاری نرخ کو ہوا میں اڑاتے ہوئے مقررہ قیمت سے 200 روپے زائد میں گیس فروخت کر رہے ہیں۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالہادی خان نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں سپلائی کم ہے اور خود ڈسٹری بیوٹرز کو مال مہنگے داموں مل رہا ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور امپورٹرز اس مصنوعی مہنگائی اور زائد قیمتوں پر فروخت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں فی کلو قیمت میں تقریباً 100 فیصد اضافے کے بعد ریٹ 250 روپے سے بڑھ کر 500 روپے تک پہنچ گیا ہے، اور مقامی ڈیلرز نے آنے والے دنوں میں گیس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اسی طرح پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے جہاں ایل پی جی کی قیمت 530 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے اور 11.8 کلوگرام کا گھریلو گیس سلنڈر 5800 روپے کی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔

ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی سرکاری ریٹ لسٹ کو یکسر نظرانداز کر کے گیس کی بلیک میں فروخت جاری ہے۔ مقامی مارکیٹ کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک ایران سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث ملک میں ایل پی جی کا سنگین بحران پیدا ہو رہا ہے جس کا براہ راست بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے، تاہم انتظامیہ اس کالا بازاری کو قابو کرنے کے لیے تاحال کوئی مؤثر حکمت عملی اپنانے میں ناکام نظر آتی ہے۔