عوامی ریلیف کے لیے منی بجٹ لانا پڑا تو وفاقی حکومت کا ساتھ دیں گے، بلاول بھٹو زرداری

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش تاریخی معاشی مشکلات اور مہنگائی سے نمٹنے کے لیے اگر وفاقی حکومت منی بجٹ لانا چاہتی ہے تو پیپلز پارٹی اس اقدام میں حکومت کا بھرپور ساتھ دے گی۔ لاڑکانہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت عوام سخت ترین حالات سے گزر رہے ہیں اور معاشی بحران کے حل کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ اس جنگ کے اثرات پوری دنیا میں پھیل جائیں گے۔ انہوں نے ایران میں اسکول کی بچیوں اور شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہی وہ واحد وجہ ہے جس کی بدولت دشمن اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو تجویز دی کہ عوامی ریلیف کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب طبقے تک شفاف طریقے سے مالی امداد پہنچائی جا سکے۔

صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ سندھ حکومت کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کی مالی مدد کرے گی جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں اپنے نام پر رجسٹرڈ کروائیں جس کے لیے ٹرانسفر فیس معاف کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عام آدمی کے لیے کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کا شکریہ ادا کیا کہ وہ قومی مقصد کے لیے مشاورت کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں سیاست سے گریز اور اتفاق رائے ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے، اگر تمام صوبے اور وفاق مل کر کام کریں گے تو دنیا کی کوئی قوت ہمیں گرا نہیں سکے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ نسل اس امتحان کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور آخر کار فتح عوام اور امن کی ہی ہو گی۔